Testo Bachana - Bilal Khan
Testo della canzone Bachana (Bilal Khan), tratta dall'album Umeed
تنہائی کے سفر میں
چلنا صبر سے
کوئی نہ نظر میں، ہاں
جب خواب ہمیں چھوڑ جائیں
سوچوں کو نبھا نہ پائیں
دن وہ یاد آئیں نہ
خطا ہو گئی، سزا ہو گئی
پرانے دن یاد آئیں نہ
دنیا کے اِس شور میں
سیکھا ہے مر کے
ہوتی زندگی کیا
میں ڈوب رہا، ڈوب رہا
بچانا، مجھے بچانا
میں ڈوب رہا، ڈوب رہا
بچانا، مجھے بچانا
جگمگاتی ہوئی رات یہ
لب پہ ہیں شکایتیں
کوئی نہیں مجھ کو سن رہا
وہ ڈھلتا دن مجبور ہے
منزل ذرا دور ہے
بجھ رہا امیدوں کا چراغ
خطا ہو گئی، سزا ہو گئی
پرانے دن یاد آئیں نہ
دنیا کے اِس شور میں
سیکھا ہے مر کے
ہوتی زندگی کیا
میں ڈوب رہا، ڈوب رہا
بچانا، مجھے بچانا
میں ڈوب رہا، ڈوب رہا
بچانا، مجھے بچانا
میں ڈوب رہا، ڈوب رہا
ڈوب رہا، ڈوب رہا
میں ڈوب رہا، ڈوب رہا
میں ڈوب رہا، ڈوب...
میں ڈوب رہا، ڈوب رہا
میں ڈوب رہا، ڈوب...
میں ڈوب رہا، ڈوب رہا
میں ڈوب رہا، ڈوب رہا
میں ڈوب رہا، ڈوب رہا
میں ڈوب رہا، ڈوب...
میں...
Credits
Writer(s): Bilal Khan
Lyrics powered by www.musixmatch.com
Link
Disclaimer:
i testi sono forniti da Musixmatch.
Per richieste di variazioni o rimozioni è possibile contattare
direttamente Musixmatch nel caso tu sia
un artista o
un publisher.